الاثنين، 23 يوليو 2012

رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق


رسول اﷲe کے حقوق
                محمدe اﷲکے منتخب بندے، آخری رسول، تمام انس وجن کے لئے اﷲکے پیغمبر، متقیوں کے پیشوا، انبیاء اور رسولوں کے سردار،اﷲکے محبوب اور خلیل اور سارے عالم کے لئے رحمت ہیں۔آپ کو اﷲتعالی نے ساری انسانیت کے لئے بشیر ونذیر بنا کر مبعوث فرمایا۔
لہٰذا مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھیں :
١۔ آپe سے ایسی محبت کریں جو اپنے جان ومال، اہل وعیال بلکہ دنیا کے تمام لوگوں سے زیادہ ہو۔
٢۔ جب بھی آپ کا نام آئے آپ پر صلاة وسلام پڑھیں یعنی e کہیں۔
٣۔ آپ eکی ذات بابرکات  اور آپe کی احادیث اور سنتوں کی دل سے تعظیم کریں۔
٤۔ جو آپ eسے دوستی رکھے ہم بھی اس سے دوستی رکھیں اور جو آپ سے دشمنی رکھے ہم بھی اس سے دشمنی رکھیں۔
٥۔آپ eکے لائے ہوئے دین وشریعت کو دنیا کے ہر فرد تک پہنچائیں اور آپ کے دین کا کلمہ سربلندکریں۔
٦۔ آپe کے ہر حکم کی اطاعت کریں اور ہر روکی ہوئی چیز سے رک جائیں۔
٧۔ آپe کی تمام خبروں کی تصدیق کریں خواہ ہماری کوتاہ عقل میں سمائے یا نہ سمائے۔
٨۔ آپe کی شریعت کے مطابق ہی اﷲکی عبادت کریں۔
اورمندرجہ ذیل چیزوں سے پرہیز کریں:
١۔آپe کی نافرمانی اور مخالفت سے۔
٢۔ آپ eسے آگے بڑھنے اور آپ کی آواز پر اپنی آواز بلند کرنے سے۔
٣۔ آپe کی ذات میں غلو کرنے اور آپ کی مدح میں مبالغہ کرنے سے۔
٤۔ آپ eکو اﷲکی صفات سے متصف کرنے سے مثلا ً عالم الغیب یا مختارِکل ماننے سے۔
٥۔ آپe کو سید البشر ماننے کے بجائے نوری مخلوق ماننے سے۔
٦۔ آپe کی شریعت میں بدعتیں ایجاد کرنے یا ایجاد شدہ و خود ساختہ بدعتوں پر عمل کرنے سے۔
٧۔ آپe کے قول وفعل وتقریر اور دین وشریعت کے مقابلہ میں کسی اور کا قول وفعل پیش کرنے سے۔

اللہ تعالیٰ کے حقوق


اللہ تعالیٰ کے حقوق
                اﷲہی ساری کائنات کا خالق، آسمان وزمین کا بنانے والا،ہر چیز کا رب اور مالک ہے۔ وہ تمام قسم کی عظمت وجلال اور کبریائی وکمال سے متصف اور ہر عیب ونقص سے پاک اور مبرا ہے۔وہ بے مثل وبے نظیر،یکتا اور وحدہ لاشریک ہے۔ وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ نہ اسے موت آنی ہے اور نہ ہی نیند آتی ہے۔ وہی اول ہے اس سے پہلے کوئی چیز نہ تھی, وہی آخر ہے اس کے بعد کو ئی چیز نہ ہوگی۔اس کی ذات کو فنا نہیں۔ اس کی سلطنت کو انتہا نہیں۔ وہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے، اس کے چاہے بغیر کچھ نہیں ہوسکتا,  اس کے فیصلوں کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ کسی کا علم وفہم اور عقل وخرد اس کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ وہی سچا معبود اور بندوں کی ہر عبادت کا تنہا مستحق ہے۔اس کے خزانوں میں خرچ کرنے سے کوئی کمی نہیں ہوتی۔وہ کسی کا محتاج نہیں,  سب اس کے محتاج ہیں۔ کوئی چیز اس سے اوجھل اور مخفی نہیں۔
لہٰذا مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھیں :
١۔ اﷲکی عظمت وکبریائی کو اپنے دل میں بٹھائیں اور اس کی کامل توحید کو اپنائیں۔
٢۔اﷲتعالی کے اسماء و صفات اور کمالات کو اس کے شایان شان ثابت کریں اور اس میں کسی قسم کی تاویل وتمثیل اور تحریف وتعطیل نہ کریں۔
٣۔اﷲتعالی کو ہر طرح کی عبادت کا تنہا مستحق جانیں؛ دعا وفریاد، رکوع وسجدہ، ذبح وقربانی، نذر ونیاز صرف اسی کے لئے کریں۔
٤۔ یہ عقیدہ رکھیں کہ اﷲکی ذات ساتوں آسمان کے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے اور اپنی مخلوقات سے الگ اور جدا ہے۔
٥۔ اس کی تقدیر اور اس کے فیصلے پر راضی ہو ں۔ نعمتوں پر شکر اور مصیبتوں میں صبر کریں۔
٦۔ اﷲپر توکل کریں اور اس کے حکم کے مطابق اسباب وذرائع کو استعمال کریں۔
٧۔ اﷲکی واجب کردہ عبادات کو بجالائیں اور اس کے حکموں کی تعمیل کریں۔
٨۔ اﷲکی حلال کردہ چیزوں کو حلال اور حرام کردہ چیزوں کو حرام جانیں۔
٩۔ اﷲکا ذکر کثرت سے کریں اورکھلے چھپے ہر حال میں اس کی نگرانی کا احساس رکھیں۔
١٠۔ اﷲکا تقوی اختیار کریں، اس کے عذاب سے ڈریں اور اس کی جنت کا حرص کریں۔
اورمندرجہ ذیل چیزوں سے پرہیز کریں:
١۔ اﷲکے ہمسر وبرابر کسی اور کو ماننے سے اور اس کی عبادت میں کسی کو کچھ بھی شریک کرنے سے۔
۲۔اللہ کے سوا کسی کو پکارنے یا کسی سے فریاد کرنے یا مدد چاہنے سے؛ یارسول مدد، یا علی مدد، یا غوث مدد کہنے سے، اللہ کے سوا کسی اور کے لئے نذر ونیاز دینے یا ذبح وقربانی کرنے سے۔
٢۔ اﷲکو ہر جگہ موجود اور حاضر رہنے کا عقیدہ رکھنے سے۔
٣۔اﷲکو کسی شکل میں انسانوں کے سامنے ظاہر ہونے کا عقیدہ رکھنے سے۔
٤۔ کسی کو اﷲکا بیٹا یا اﷲکی نسل اور خاندان کا ماننے سے۔
٥۔ اس کے ذکر میں غفلت اور اس کی معصیت اورنافرمانی سے۔
٦۔ اس کی رحمت سے مایوس ہونے سے۔
٧۔ کسی نعمت کے ملنے یا مصیبت کے ٹلنے کو اس کے سوا کسی اور کی جانب منسوب کرنے سے۔
٨۔ غیر اﷲکی قسم کھانے سے۔
٩۔ غیر اﷲکو ملک الملوک یا شہنشاہ کہنے سے۔
١٠۔ زمانہ کو گالی دینے سے کیونکہ گردش زمانہ اﷲکے حکم سے ہے۔

پیش لفظ


بسم اﷲالرحمن الرحیم
پیش لفظ
                قابل ستائش اقوال وافعال اور اعمال وکردار اختیار کرنے کا نام ادب ہے، گویا وہ حسن اخلاق کا ایک ثمرہ ہے۔ درحقیقت ادب ہی وہ قیمتی جوہر اور گراں مایہ گوہر ہے جو انسان کو اخلاق حمیدہ کے اپنانے اور اعمال قبیحہ کے ترک کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ ادب ہی وہ ظاہری دلیل ہے جس کے ذریعہ انسان کی عقلمندی وہوشیاری کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ادب آدمی کو معنوی حسن وجمال عطا کرتا اور اخلاقی زیب وزینت سے مزین کرتا ہے۔ باادب ہر کسی کے نزدیک محبوب ہوتا ہے اور اس کی ہرکوئی ثنا خوانی کرتا ہے اس کے برخلاف بے ادب سے ہرکسی کو صرف گلہ اور شکوہ ہی نہیں بلکہ نفرت وکراہت بھی ہوتی ہے۔
                 دیگر علوم کی بہ نسبت حقوق وآداب کے علم کی اہمیت وضرورت بہت زیادہ ہے؛ کیونکہ اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ بندہ اپنے رب کے ساتھ کیسا معاملہ کرے اور اپنے والدین کے ساتھ کیا طرز عمل اختیار کرے, نیز دیگر صغیر وکبیر کے ساتھ کیا رویہ اپنائے؟ تمام آداب سب کے حقوق جان کر ہی انجام دیئے جاسکتے ہیں۔ اسلام کی شمولیت اس بات کی متقاضی ہے کہ ایسا اہم علمی باب بیان سے تشنہ نہ رہے, چنانچہ کتاب وسنت میں حقوق وآداب کی بڑی تفصیل آئی ہے, اور علمائے کرام نے اس موضوع پر مستقل تصنیفات کی ہیں۔ ہم نے بھی علماء کے اس مبارک کارواں کی ہمرکابی کو اپنے لئے باعث شرف وسعادت سمجھتے ہوئے اس موضوع پر قلم اٹھایا اور الحمد ﷲبتوفیق الٰہی ایک نئے اسلوب اور نئے طرز وانداز سے حقوق وآداب کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ابتدا میں غالباً موضوع سے متعلق چند تمہیدی کلمات لکھے گئے ہیں, پھر واجبات ومستحبات کو اختیار کرنے اور اس کے بعد مکروہات ومحرمات کو چھوڑدینے کی دعوت دی گئی ہے۔ اختصار کی خاطر دلائل ذکر کئے بغیر صرف مسائل کو نقاط کی صورت میں پیش کرنے پر اکتفا کیا گیا ہے۔
                 رب العالمین سے دعا ہے کہ یہ کتاب امت اسلامیہ کی اصلاح کا ذریعہ اور ہمارے لئے ذخیرۂ آخرت اور دارین میں کارآمد بنے۔ آمین
                                                                دعاگو
                                                عبدالہادی عبد الخالق مدنی
                                                    داعی احساء اسلامک سینٹر,ہفوف،
     مملکت سعودی عرب

اسلامی حقوق وآداب


آداب إسلامية


اسلامی حقوق وآداب

اعداد:
عبد الہادی عبد الخالق مدنی




قسم البحوث والترجمة - مکتب توعية الجاليات بالاحساء
                                            ص ب ٢٠٢٢ ۔  ہفوف۔  الاحساء ۔  مملکت سعودی عرب