الاثنين، 23 يوليو 2012

پیش لفظ


بسم اﷲالرحمن الرحیم
پیش لفظ
                قابل ستائش اقوال وافعال اور اعمال وکردار اختیار کرنے کا نام ادب ہے، گویا وہ حسن اخلاق کا ایک ثمرہ ہے۔ درحقیقت ادب ہی وہ قیمتی جوہر اور گراں مایہ گوہر ہے جو انسان کو اخلاق حمیدہ کے اپنانے اور اعمال قبیحہ کے ترک کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ ادب ہی وہ ظاہری دلیل ہے جس کے ذریعہ انسان کی عقلمندی وہوشیاری کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ادب آدمی کو معنوی حسن وجمال عطا کرتا اور اخلاقی زیب وزینت سے مزین کرتا ہے۔ باادب ہر کسی کے نزدیک محبوب ہوتا ہے اور اس کی ہرکوئی ثنا خوانی کرتا ہے اس کے برخلاف بے ادب سے ہرکسی کو صرف گلہ اور شکوہ ہی نہیں بلکہ نفرت وکراہت بھی ہوتی ہے۔
                 دیگر علوم کی بہ نسبت حقوق وآداب کے علم کی اہمیت وضرورت بہت زیادہ ہے؛ کیونکہ اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ بندہ اپنے رب کے ساتھ کیسا معاملہ کرے اور اپنے والدین کے ساتھ کیا طرز عمل اختیار کرے, نیز دیگر صغیر وکبیر کے ساتھ کیا رویہ اپنائے؟ تمام آداب سب کے حقوق جان کر ہی انجام دیئے جاسکتے ہیں۔ اسلام کی شمولیت اس بات کی متقاضی ہے کہ ایسا اہم علمی باب بیان سے تشنہ نہ رہے, چنانچہ کتاب وسنت میں حقوق وآداب کی بڑی تفصیل آئی ہے, اور علمائے کرام نے اس موضوع پر مستقل تصنیفات کی ہیں۔ ہم نے بھی علماء کے اس مبارک کارواں کی ہمرکابی کو اپنے لئے باعث شرف وسعادت سمجھتے ہوئے اس موضوع پر قلم اٹھایا اور الحمد ﷲبتوفیق الٰہی ایک نئے اسلوب اور نئے طرز وانداز سے حقوق وآداب کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ابتدا میں غالباً موضوع سے متعلق چند تمہیدی کلمات لکھے گئے ہیں, پھر واجبات ومستحبات کو اختیار کرنے اور اس کے بعد مکروہات ومحرمات کو چھوڑدینے کی دعوت دی گئی ہے۔ اختصار کی خاطر دلائل ذکر کئے بغیر صرف مسائل کو نقاط کی صورت میں پیش کرنے پر اکتفا کیا گیا ہے۔
                 رب العالمین سے دعا ہے کہ یہ کتاب امت اسلامیہ کی اصلاح کا ذریعہ اور ہمارے لئے ذخیرۂ آخرت اور دارین میں کارآمد بنے۔ آمین
                                                                دعاگو
                                                عبدالہادی عبد الخالق مدنی
                                                    داعی احساء اسلامک سینٹر,ہفوف،
     مملکت سعودی عرب

ليست هناك تعليقات:

إرسال تعليق